ہفتہ 26 ستمبر 2026 - 18:12
زندہ علماء کی قدر کیجئے؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ کفن تو دیں، مگر لباسِ زندگی نہ دے سکیں

حوزه/ زندہ علماء کی قدر کیجئے؛ کیونکہ جو چراغ آج ہمارے سامنے روشن ہے، اس کی روشنی سے محروم ہوجانے کے بعد صرف اس کی تصویر کو دیکھتے رہنا، روشنی حاصل کرنے کا بدل نہیں ہوسکتا۔

تحریر:مزمل حسین علیمی آسامی

حوزه نیوز ایجنسی | ہمارے علماء و مشائخ وہ چراغ ہیں جو ہمیں گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر راہِ ہدایت دکھاتے ہیں۔ وہ عصرِ حاضر کے فتنوں سے آگاہ کرتے، مسائلِ شرعیہ سے روشناس کراتے اور دین و شریعت کی حفاظت کے لیے اپنی صلاحیتیں اور زندگی وقف کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علماء صرف ہمارے دینی رہنما ہی نہیں، بلکہ ہماری فکری و روحانی زندگی کے محافظ بھی ہیں۔

لیکن ایک عجیب المیہ ہمارے معاشرے میں رفتہ رفتہ جڑ پکڑتا جا رہا ہے۔ جو علماء آج ہمارے درمیان موجود ہیں، ان کی خدمت میں حاضر ہونے، ان کی خیریت دریافت کرنے، ان سے علم و معرفت حاصل کرنے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں۔ مگر جب یہی بزرگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو اچانک ہماری محبت بیدار ہو جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، ان کی تصاویر گردش کرنے لگتی ہیں اور ہم ان کی عظمت و خدمات کے ایسے ایسے پہلو بیان کرنے لگتے ہیں جیسے ان سے ہماری محبت کا اس سے بڑھ کر کوئی ثبوت ممکن ہی نہ ہو۔

ذرا سوچئے! اگر کسی عالمِ دین کی قدر و منزلت اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ دنیا میں موجود نہ رہے، تو پھر ہماری یہ محبت ان کے کس کام کی؟

ایک فقیر نے ایک مالدار شخص سے پوچھا: ’’اگر مجھے تمہارے گھر میں موت آجائے تو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرو گے؟‘‘

مالدار نے جواب دیا: ’’میں تمہیں کفن دوں گا اور دفن کر دوں گا۔‘‘

فقیر نے کہا: ’’اگر ایسا ہی ہے تو ابھی جب میں زندہ ہوں، مجھے پہننے کے لیے کپڑے دے دو؛ مرنے کے بعد کفن کی ضرورت تو سب پوری کر دیتے ہیں۔‘‘

یہ مختصر سا مکالمہ دراصل ہمارے اجتماعی رویّے پر ایک گہرا سوال ہے۔ ہم کسی انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اس کی قدر و منزلت بیان کرنے میں تو پیش پیش رہتے ہیں، مگر اس کی زندگی میں اس کے ساتھ کھڑے ہونے، اس کی ضرورت پوچھنے اور اس کے ہاتھ تھامنے سے اکثر غافل رہتے ہیں۔

کسی بزرگ کی وفات پر تعزیت کرنا، ان کی خدمات کو یاد کرنا اور ان کے علمی و دینی مقام کا اعتراف یقیناً اچھی بات ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ قیمتی بات یہ ہے کہ جب وہ ہمارے درمیان زندہ ہوں تو ہم ان کی قدر کریں۔ ان کی خیریت دریافت کریں، ان سے رابطہ رکھیں، ان کی مجلس میں بیٹھیں، ان کے علم سے استفادہ کریں اور اگر انہیں کسی مدد یا تعاون کی ضرورت ہو تو اپنی استطاعت کے مطابق ان کا ہاتھ تھامیں۔

ہم مزارات پر حاضری دیتے ہیں، اولیاء و علماء کی قبور پر فاتحہ خوانی کرتے ہیں اور ان سے وابستہ یادوں کو عقیدت سے محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہے، لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جن بزرگوں کے مزارات پر ہم حاضری دیتے ہیں، ان کی علمی و روحانی میراث آج بھی زندہ علماء کے ذریعے ہم تک پہنچ رہی ہے۔

آج جو عالمِ دین ہمارے درمیان موجود ہے، وہ کل کے کسی صاحبِ مزار کی علمی و فکری میراث کا امین بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے زندہ علماء کی خدمت اور ان سے استفادہ دراصل علم و دین کی اسی زندہ روایت سے وابستگی ہے۔

ہمیں اپنے رویّے پر غور کرنا ہوگا۔ محبت صرف تعزیتی پوسٹ کا نام نہیں، عقیدت صرف پھول چڑھانے یا چند تعریفی جملے لکھ دینے کا نام نہیں اور قدر شناسی صرف کسی کے انتقال کے بعد آنسو بہانے کا نام نہیں۔ حقیقی محبت یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں اس کے قریب رہا جائے، اس کی قدر کی جائے، اس کی ضرورت کو سمجھا جائے اور اس کی موجودگی کو نعمت سمجھا جائے۔

اگر ہمارے کسی عالمِ دین نے پوری زندگی ہمیں دین کا راستہ دکھانے، مسائل سمجھانے، فتنوں سے آگاہ کرنے اور ہماری فکری و روحانی تربیت میں صرف کردی ہے تو کیا ہمارا یہ فرض نہیں کہ ہم کبھی ان کی خیریت بھی پوچھیں؟ کبھی ان کی مجلس میں بیٹھیں؟ کبھی ان کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کریں؟ کبھی بغیر کسی غرض کے صرف ملاقات کے لیے ان کے دروازے پر جائیں؟

یاد رکھئے، مرنے والے کے لیے کفن کا انتظام کرنا آسان ہے، اصل امتحان تو یہ ہے کہ زندہ انسان کو زندگی میں کتنی محبت، توجہ، عزت اور سہارا دیا گیا۔

اس لیے مزارات پر حاضری کے ساتھ ساتھ ان زندہ علماء کی بارگاہوں میں بھی حاضری کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیے جو آج ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان سے فیض حاصل کیجئے، ان کی قدر کیجئے، ان کی خیریت دریافت کیجئے اور حسبِ استطاعت ان کی خدمت کیجئے۔ یہی بزرگ کل ہماری یادوں، ہمارے علم اور ہماری دینی شناخت کا حصہ بنیں گے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ جب وہ ہمارے درمیان نہ رہیں تو ہمارے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہو، مگر ان کی زندگی میں دینے کے لیے ہمارے پاس وقت نہ تھا۔

زندہ علماء کی قدر کیجئے؛ کیونکہ جو چراغ آج ہمارے سامنے روشن ہے، اس کی روشنی سے محروم ہوجانے کے بعد صرف اس کی تصویر کو دیکھتے رہنا، روشنی حاصل کرنے کا بدل نہیں ہوسکتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha